کراچی ،16؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)پاکستان کی سیاسی تاریخ کے دلچسپ ترین انتخابی معرکے کے لیے میدان سج گیا ہے اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نا اہلی کے بعد خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست پر اتوار کے روز الیکشن کی تمام تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں۔قومی اسمبلی کے اس انتخابی حلقے سے الیکشن میں حصہ لینے کے لیے 44 امیدوار میدان میں اترے تھے۔ لیکن اصل مقابلہ صرف کلثوم نواز اور ڈاکٹر یاسمین راشد ہی کے مابین ہو گا۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کی طرف سے سابق خاتون اول اور برصغیر کے معروف پہلوان گاما پہلوان کی نواسی 67 سالہ بیگم کلثوم نواز اس حلقے سے انتخاب میں حصہ لے رہی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کی فارغ التحصیل بیگم کلثوم نواز نے عملی سیاست میں سرگرمی سے حصہ لینا انیس سو ننانوے میں شروع کیا تھا، جب جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں ان کے شوہر نواز شریف کی حکومت برطرف ہو گئی تھی۔ کلثوم نواز مسلم لیگ (ن) کی عبوری صدر بھی رہی ہیں، وہ آج کل اپنی علالت کی وجہ سے لندن میں ہیں اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے ان کی انتخابی مہم کی سربراہی کی ہے۔اس انتخابی حلقے سے پی ٹی آئی کی امیدوار پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ کے ایک وفاقی وزیر ملک غلام نبی کی بہو ڈاکٹر یاسمین راشد ہیں، جو پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں اور فاطمہ جناح میڈیکل کالج لاہور میں گائناکالوجی کی پروفیسر بھی رہی ہیں۔ وہ تھیلیسیمیا کی بیماری کے شکار بچوں کی مدد کے لیے ایک غیر سرکاری فلاحی ادارہ بھی چلاتی ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی صدر بھی رہ چکی ہیں۔ انہوں نے 2013 کے انتخابات میں اسی حلقے سے نواز شریف کے اکانوے ہزار ووٹوں کے مقابلے میں باون ہزار ووٹ حاصل کیے تھے۔